فقہ الہلال وہ علم ہے جس میں قرآن و سنت اور فقہاء کرام کی آراء کی روشنی میں نئے اسلامی مہینہ کے آغاز کے لئے صحیح اور درست طریقہ سے ہلال کا تعین کیا جائے تاکہ پچھلے مہینہ کے اختتام اور نئے ماہ کے آغاز کا قطعی یقین ہو۔
چاند کے متعلق دلچسپ حقائق
چاند کوئی سیارہ نہیں ہے بلکہ زمین کا سیٹلائٹ ہے۔ چاند کی سطح کا رقبہ 14,658,000 مربع میل یا 9.4 بلین ایکڑ ہے۔ چاند کی سطح کا صرف 59 فیصد حصہ زمین سے نظر آتا ہے۔ چاند زمین کی 1000 میل فی گھنٹہ کی گردش کے مقابلے میں 10 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتا ہے۔ زمین سے، ہم ہمیشہ چاند کا ایک ہی رخ دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف ہمیشہ پوشیدہ ہے. ہمیں چاند پر جو سیاہ دھبے نظر آتے ہیں جو چاند پر انسان کی تصویر بناتے ہیں وہ درحقیقت بیسالٹ سے بھرے گڑھے ہیں جو کہ ایک بہت گھنا مواد ہے۔ چاند واحد ماورائے ارضی جسم ہے جس پر انسانوں نے کبھی دورہ کیا ہے۔ چاند کا کوئی عالمی مقناطیسی میدان نہیں ہے۔ چاند کا قطر زمین کے قطر کا تقریباً 1/4 ہے۔ تقریباً 49 چاند زمین کے اندر فٹ ہوں گے۔
چاند کی گردش زمین کے گرد کردش
چاند زمین کے گرد مغرب سے بطرف مشرق گردش کرتا ہے چاند کی اس گردش کا دورہ ایک قمری ماہ کہلاتا ہے چاند اس گردش کا ایک دورہ یعنی 360 درجات 27 دن 7 گھنٹے 43 منٹ میں پورے کرتا ہے ۔ یہ تو چاند کی اصل حرکت کا دورہ ہے ۔
لہذا قمری ماہ کی مدت بھی اتنی ہونی چاہئے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قمری ماہ یعنی ایک ہلال سے دوسرے ہلال تک کا زمانہ کبھی 29 دن اور کبھی 30 دن ہوتا ہے ، قمری ماہ کی اس زیادتی کا سبب کیا ہے ؟؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کا سبب زمین کی سورج کے گرد حرکت ہے ، زمین اگر اپنی جگی پر قائم رہتی تو ایک قمری ماہ کی مدت 27 دن 7 گھٹے 43 منٹ ہوتی لیکن زمین اپنے مدار میں 27 دن میں کافی دور نکل جاتی ہے اور چاند بھی اس حرکت میں زمین کے ساتھ شریک ہے ۔ چنانچہ چاند کو واپس پہلی جگہ پر سورج اور زمین کے درمیان میں آنے کے لئے اپنے دورے سے مزید کچھ مسافت طے کرنی پڑتی ہے ۔ اس میں چاند کو تقریبا دو دن لگ جاتے ہیں اسی واسطے چاند کو واپس ہلالی شکل میں آنے کے لئے کبھی 29 دن لگ جاتے ہیں اور کبھی 30 دن اس طرح قمری ماہ کی مدت 27 دن 7 گھٹے کے بجائے 29 دن 6 گھٹے سے لے کر 29 دن 20 گھٹے کے درمیان ہوجاتی ہے۔
اس بات کو مکمل وضاحت کے ساتھ پوسٹ کی تصویر میں سمجھا دیا گیا ہے ۔
چاند کی زمین کے گرد مکمل گردش یعنی 27.3 دن کو انگریزی میں Sidereal month اور ایک قمری ماہ (ایک ہلال سے دوسرے ہلال تک کا زمانہ) یعنی 29 دن کو Synodic Month کہا جاتاہے ۔
فقہ الہلال سمجھنے سے پہلے چند ایک اصطلاحات کا سمجھنا ضروری ہے۔
محاق :
جب چاند 27.3 دن میں اپنا چکر مکمل کرتا ہے تو پھر چاند کو سورج کے بالکل سامنے آنے مزید سفر کرنا ہوتاہے۔ جس سے چاند کی پیدائش ہوتی ہے۔ اسی نئے چاند کو محاق کہتے ہیں۔ انگریزی میں نیومون کہتے ہیں۔ اس حالت میں چاند بالکل تاریک ہوتا ہے
ہلال :
سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر189 کی تفسیر میں امام فخرالدین رازی فرماتے ہیں:الْأَهِلَّةُ جَمْعُ هِلَالٍ وَهُوَ أَوَّلُ حَالِ الْقَمَرِ حِينَ يَرَاهُ النَّاسُ، يُقَالُ لَهُ: هِلَالُ لَيْلَتَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ ثُمَّ يَكُونُ قَمَرًا بَعْدَ ذَلِكَ، وَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ: يُسَمَّى الْقَمَرُ لَيْلَتَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ هِلَالًا، وَكَذَلِكَ لَيْلَتَيْنِ مِنْ آخِرِ الشَّهْرِ، ثُمَّ يُسَمَّى مَا بَيْنَ ذَلِكَ قَمَرًا۔"الأہلّة، ہلال کی جمع ہے، اور ہلال چاند کی ابتدائی حالت کو کہا جاتا ہے جب لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ اسے مہینے کے شروع کی دو راتوں تک ‘ہلال کہا جاتا ہے، پھر اس کے بعد اسے ‘قمر’ (چاند) کہا جاتا ہے۔
اور ابو الہیثم نے کہا: مہینے کے شروع کی دو راتوں میں چاند کو ‘ہلال’ کہا جاتا ہے، اسی طرح مہینے کے آخر کی دو راتوں میں بھی اسے ‘ہلال’ کہا جاتا ہے، اور ان کے درمیان کے زمانے میں اسے ‘قمر’ کہا جاتا ہے۔
جب چاند محاق سے نکل کر سورج کی روشنی کے سامنے آتا ہے۔ تو سورج کی روشنی سے منور ہوتا ہے ۔اور اس پرروشنی کی چمک آنکھ یا دوربین سے دیکھی جاتی ہے۔ اس کو ہلال کہتے ہیں۔ہمارے عہد کے جدید ماہرین فلکیات نے فقہاء کی ہلال کی تعریفات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اصول ہلال کی رویت کے کئی تجربات کے تکرار سے اخذ کیا کہ جب چاند کا پیدائش کے بعد افقی ارتفاع 5 اور بعد شمس 8 ہو تو اس صورت میں وہ ہلال کی شکل میں چاند ہوتا ہے ۔

مطلع:
مطلع کا معنی ہے طلوع ہونے کا مقام، اس کی جمع مطالع ہے۔ جس مقام پر چاند طلوع ہوتا ہے ، اس کو مطلع ِ ہلال کہتے ہیں۔
THE UK AND EUROPE HILAL FORUM
Add new comment